قرآن میں آیت مباہلہ اور مباہلہ کا پس منظر

ahlebait se muhabat

نصارئے نجران کے اشراف و بزرگ افرادسے ساٹھ آدمیوں پر مشتمل وفدجس میں سید، عاقب اور ابوحارثہ(اسقف) ، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی دعوت پر مدینہ پہنچے، اسقف نے سوال کیا ، یا محمد، عیسی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: وہ خدا کے بندے اور اس کے رسول تھے، انہوں نے کہا: کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ کوئی بچہ بغیر باپ کے پیدا ہو؟ یہ آیت نازل ہوئی:ان مثل عیسی عبداللہ آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون۔
یعنی حضرت عیسی کا واقعہ خداکے نزدیک حضرت آدم کے واقعہ کی طرح ہے کہ خدا وند عالم نے اس کو زمین سے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔ مناظرہ بہت لمبا ہوگیا اور وہ اپنی ضد اور دشمنی پر قائم تھے، خداوند عالم نے فرمایا:
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡاْ نَدۡعُ أَبۡنَآءَنَا وَأَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡڪَـٰذِبِينَ (٦١) (سورہ آل عمران، آیت۶۱)
یعنی ان تمام واضح باتوں کے باوجود اگر تم سے کوئی عیسی کے متعلق گفتگو کرے تو آپ ان سے کہو: “ہم اپنے فرزندوں کو بلائیں اور تم اپنی فرزندوں کو بلاؤ ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں تم اپنی عورتوں کوبلاؤ ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اورتم اپنے نفسوں کوبلاؤ پھر مل کر مباہلہ کرتے ہیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں گے۔”
آیت نازل ہونے کے بعد یہ طے پایا کہ دوسرے دن مباہلہ کیاجائے، پھرنصاری اپنی جگہ واپس چلے گئے ، مشورہ کرنے کے بعد ابوحارثہ نے کہا: اگر محمد کل اپنے بچوں اور اہل بیت کے ساتھ آئیں تو خبردار مباہلہ نہ کرنا لیکن اگر کسی اور کے ساتھ آئیں تو پھرمباہلہ کرنا(مباہلہ: یعنی ایک دوسرے پر لعنت کیلئے بددعا اور لعنت کرنا)۔اگلے روز صبح کے وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، حضرت علی(علیہ السلام)کے گھر تشریف لائے اور حسنین(علیہم السلام)کے ہاتھ پکڑ کر حضرت امیر المومنین کو آگے کیا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  ان کے پیچھے چلیں اور مدینہ سے مباہلہ کے لئے روانہ ہوئے، ابو حارثہ نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ ان میں سے ہر ایک کو پہچنوایا۔پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)صحرا میں گئے اور دو زانو ہو کر بیٹھ گئے تاکہ مباہلہ کریں، سید اور عاقب بھی اپنے بچوں کو لے کر مباہلہ کے لئے آگیا، ابوحارثہ نے کہا: خدا کی قسم وہ اس طرح بیٹھے ہیں جس طرح انبیاء مباہلہ کے لئے بیٹھتے ہیں، پھر ابوحارثہ واپس آگیا، سید نے کہا: ائے ابو حارثہ مباہلہ کے لئے آؤ، اس نے کہا: اگر محمد ، حق پر نہ ہوتے تو مباہلہ کی جرائت نہ کرتے اور اگر مباہلہ کیا گیا تو ایک سال میں تمام نصرانی ختم ہوجائیں گے، آخر کار انہوں نے کہا: ائے ابوالقاسم ، مباہلہ نہ کرکے مصالحہ کرلیتے ہیں،پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے قبول کرلیا، اور یہ طے پایا کہ ہر سال دو ہزار حلہ، جزیہ کے طور پر ادا کریں،ہر حلہ کی قیمت
۴۰درہم تھی۔ اور اگر جنگ وغیرہ پیش آئے تو تیس عدد زرہ، تیس عدد نیزہ اور تیس گھوڑے عاریہ کے طور پر دیں، اس کے بعد صلح نامہ لکھا گیا اور کچھ عرصہ بعد پیغمبر کرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مباہلہ کی روایت ، شیعوں کی تمام کتابوں میں بیان ہوئی ہے اور عامہ کی بیشتر کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے جیسے صحیح مسلم، مسند احمد، سنن ترمذی وغیرہ، اور ان کتابوں میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یہ آیت ، پیغمبر اکرم،علی، فاطمہ، حسن اور حسین(علیہم السلام)کے متعلق نازل ہوئی ہے اور یہ تمام لوگوں پر حضرت علی(علیہ السلام)کی فضیلت پردلیل ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مباہلہ میں علی(علیہ السلام)کو اپنے ساتھ لے کر گئے جب کہ تمام لوگ مدینہ ہی میں تھے(۱)۔۱۔ حوادث الایام، ص ۳۰۴۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s