خانہ کعبہ میں امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی ولادت

ولادت علی (ع) کے سلسلہ میں علماء،مورخین و محدثین کا نظریہ

۱۔ حاکم نیشابوری

امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ خانہ کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے یہ روایت تواتر کی حد تک ہے ۔ (۵

۲۔حافظ گنجی شافعی

امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۳۱رجب ، ۰۳ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔… اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی بیت اللہ میں پیدا نہ ہوا ۔ یہ مقام و منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے ۔ (۶)

۳۔علامہ ابن صبّاغ مالکی

علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۳۱رجب ،۰۳عام الفیل، ۳۲سال قبل از ہجرت مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔حضرت علی علیہ السلام کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے ۔ (۷)

۴۔احمد بن عبد الرحیم دہلوی :

شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم د معروف محدث دہلوی نقل کرتے ہیں:
”بغیر کسی شک و شبہ کے یہ روایت متواتر ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت ،مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے ۔ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد کوئی بھی شخص خانہ کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت علی (ع) کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے “(۸)

۵۔ علامہ ابن جوزی جنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے :

”جناب فاطمہ (ع)بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھےں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلااورجناب فاطمہ (ع)بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہوگئی ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔“ (۹)

۶۔ابن مغازلی شافعی زبیدہ بنت عجلان سے نقل کرتے ہیں :

”جس وقت فاطمہ بنت اسد پر وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اور درد شدت اختیار کرگیا ، تو جناب ابو طالب(ع)بہت زیادہ پریشان ہوگئے اسی اثناءمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں پہنچ گئے اور پوچھا چچا جان آپ کیوں پریشان ہیں ! جناب ابو طالب (ع) نے جناب فاطمہ بنت اسد کا قضیہ بیان کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فاطمہ(ع)بنت اسد کے پاس تشریف لے گئے ۔اور آپ (ص) نے جناب ابو طالب (ع)کاہاتھ پکڑکر خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوگئے ،فاطمہ (ع)بنت اسد بھی ساتھ ساتھ تھیں ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے فاطمہ(ع) بنت اسد کو خانہ کعبہ کے اندر بھیج کر فرمایا : ”اجلسی علیٰ اسم اللّٰہ “ اللہ کا نام لے کر آپ اس جگہ بیٹھ جائیے ۔ پس کچھ دیر کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت وپاکیزہ بچہ پیدا ہوا ۔ اتنا خوبصورت بچہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔جناب ابوطالب (ع)نے اس بچہ کا نام ” علی “رکھا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بچہ کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر فاطمہ (ع)بنت اسد کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے ۔ (۱۰)

۷۔علامہ سکتواری بسنوی :

اسلام میں وہ سب سے پہلا بچہ ہے جس کا تمام صحابہ کے درمیان ”حیدر “ یعنی شیر نام رکھاگیاہے۔ وہ ہمارے مولا اور سید و سردار حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔ جس وقت حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابو طالب (ع)سفر پرگئے ہوئے تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی مادر گرامی نے ان کانام تفاول کرنے کے بعد”اسد“ رکھا ۔ کیوں کہ” اسد“ ان کے والد محترم کا نام تھا۔ (۱۱)

۸۔ علامہ محمد مبین انصاری حنفی لکھنوی(فرنگی محلی):

حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بھی اس پاک و پاکیزہ اور مقدس جگہ پر پیدا نہ ہوا ۔ خدا وند عالم نے اس فضیلت کو فقط حضرت علی (ع) ہی سے مخصوص کیا ہے اور خانہ کعبہ کو بھی اس شرف سے مشرف فرمایا ہے۔ (۱۲)

۹۔ صفی الدین حضرمی شافعی لکھتے ہیں:

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔آپ (ع) وہ پہلے اور آخری شخص ہیں جو ایسی پاک اور مقدس جگہ پیدا ہوے ۔(۱۳)

۱۰۔ حافظ شمس الدین ذہبی:

حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذہبی ” تلخیص مستدرک “ میں تحریر فرماتے ہیں: یہ خبر تواتر کی حد تک ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (۱۴)

۱۱۔ آلوسی بغدادی:

یہ واقعہ اپنی جگہ بجا اور بہتر ہے کہ خدا وند عالم نے ارادہ کیا ہے کہ ہمارے امام اور پیشوا کو ایسی جگہ پیدا کرے جو سارے عالم کے مومنین کا قبلہ ہے ۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ پر وردگار کہ ہر اس چیز کو اسی کی جگہ پر رکھتا ہے ۔وہ بہترین حاکم ہے ۔ (۵۱)
وہ آگے لکھتے ہیں:
جیسا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بھی چاہتے تھے کہ خانہ کعبہ جس کے اندر پیدا ہونا ان کے لئے باعث افتخار تھااس کی خدمت کریں۔یہی وجہ تھی کہ انھوں نے بتوں کو بلندی سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا ۔ حدیث کے ایک ٹکڑے میں آیا ہے کہ خانہ کعبہ نے بارگاہ خدا وندی میں شکایت کرتے ہوئے کہا : بار الٰہا کب تک لوگ میرے چاروں طرف بتوں کی پوجا کرتے رہیں گے۔ خداوند عالم نے اس سے وعدہ کیا کہ اس مکان مقدس کو بتو ں سے پاک کرے گا۔ (۱۶)

۱۲۔ عبد الحق دہلوی:

عبد الحق بن سیف الدین دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“ میں تحریر فرماتے ہیں: جناب فاطمہ بنت اسد نے امیر المومنین کا نام حیدر رکھا ،اس لئے کہ معنی کے اعتبار سے باپ (اسد) اور بیٹے کا نام ایک ہی رہے۔ لیکن جناب ابو طالب (ع) اس نام کو پسند نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آپ کا نام ” علی (ع) “ رکھا۔ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ”صدیق “ کہہ کر پکارا اور آپ کی کنیت ” ابو ریحانتین“ رکھی۔ ” امین، شریف، ہادی، مہتدی، یعسوب الدین وغیرہ القاب سے آپ کو نوازا۔اس کے بعد عبد الحق بن سیف الدین دہلوی تحریر فرماتے ہیں : ” حضرت علی (ع) کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی“ (۱۷)

۱۳۔اخطب خوارزمی:

موفق بن احمد جو اخطب خوارزمی سے مشہور ہیں اپنی کتاب ” مناقب“ میں تحریر فرماتے ہیں: ”علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت اور بعثت سے ۱۰ یا ۱۲ سال پہلے مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے“ ۔ (۱۸)

۱۴۔ شیخ مومن بن حسن شبلنجی:

شیخ مومن بن حسن شبلنجی کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن طالب (ع) حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچازاد بھائی اور خدا وند عالم کی برہنہ تلوار ہیں جو مکہ معظمہ خانہ کعبہ کے اندر ۱۳رجب الحرام جمعہ کے دن ۳۰ عام الفیل ہجرت کے ۲۳سال قبل خانہ خدا میں پیدا ہوئے ۔ (۱۹)

۱۵۔عباس محمود عقاد :

عقاد کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پید ا ہوئے ۔ خدا وند عالم نے حضرت علی علیہ السلام کے چہرے کو پاک و پاکیزہ اور بلند قرار دیا تھا کہ وہ بتوں کا سجدہ نہ کریں لہٰذا وہ چاہتا تھا کہ ایک نئے انداز اور نئی جگہ ان کی ولادت ہو پس خانہ کعبہ کو انتخاب کیا جو عبادت گاہ تھی۔قریب تھا کہ علی علیہ السلام مسلمان پیدا ہوتے ۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمان پیدا ہوئے ،لہٰذا ہم ان کی ولادت پر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوئے کیوں کہ وہ بتوں کی پرستش سے ناواقف تھے اور نہ کبھی بتوں کی پوجا کی۔ وہ اس مبارک جگہ پیدا ہوئے جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا۔ (۲۰)

۱۶۔ علامہ صفوری:

علامہ صفور ی کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اپنی مادر گرامی کے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر جس کو خدا نے شرف بخشا ہے پیدا ہوئے ۔ یہ وہ فضیلت ہے جس کو خدا وند عالم نے ان کے لئے مخصوص کر دیا تھا۔ (۲۱)

۱۷۔ علامہ برہان الدین حلبی شافعی:

علامہ برہان الدین حلبی شافعی نے حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت کے سلسلہ میں کافی طولانی بحث کی ہے مختصر یہ کہ حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیداہوئے ۔ اس وقت حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمرمبارک تیس سال تھی۔(۲۲)

۱۸۔ عبد الحمید خان دہلوی :

عبد الحمید خان دہلوی لکھتے ہیں: اکثر مو ¿رخین کا اتفاق و اعتقاد ہے کہ حضرت علی علیہ السلام مکہ معظمہ خانہ کعبہ کے اندر جمعہ کے دن ۱۳ رجب تیس عام الفیل کو پیدا ہوئے اُس سے پہلے اور اُس کے بعد کوئی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا ۔ (۲۳)

۱۹۔ باکثیر حضرمی:

”علی بن ابی طالب علیہ السلام ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے“ (۲۴)

۲۰۔ مولوی اشرف

”علی بن ابی طالب علیہ السلام ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے“ (۲۵)

۲۱۔ علّامہ سعید گجراتی:

علامہ سعید گجراتی اہل سنت کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں ،اپنی کتاب ” الاعلام با علام مسجد الحرام “ میں اس روایت کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ” حضرت علی (ع) ابو قبیس نامی پہاڑ کے دامن میں پیدا ہوئے“ جس کو دشمنان اہلبیت (ع)نے لکھا ہے۔
” خدا یا ! تو بہتر جانتا ہے کہ یہ بہتان دشمنان اہلبیت (ع) کی طرف سے ہے ۔ دشمنان علی (ع) نے اس واقعہ کو گڑھا ہے ۔ جب کہ متواتر روایتیں دلالت کرتی ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ خدایا ! تو مجھے رسول اکرم (ص) کی سنت پر باقی رکھ اور ان کے اہلبیت (ع) کی دشمنی سے دور رکھ “ (۲۶)

۲۲۔ عبد المسیح انطاکی مصری:

عبد المسیح انطاکی مصری شاعرنے مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام کی ولادت سےمتعلق تقریبا پانچ سو (۵۰۰) شعر کہیں ہیں کہ حضرت علی (ع) خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ میں ان تمام اشعار کو یہاں ذکر نہیں کر سکتا شاہد کے طور پر مطلع آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں:
فی رحبۃ الکعبۃ الزھراءقد انبثقت
انوار طفل وضائت فی منافیھا (۲۷)

——————————————————————————–
۱۔ سیرہ امیر المومنین ، ج۱۱۴۔ تالیف علامہ مفتی جعفر حسین صاحب ( ناشر امامیہ کتب خانہ لاہور)
۲۔ سورہ مائدہ ۹۷
۳۔ سورہ آل عمران ۹۶
۴۔ زندگانی امیر المومنین (ع) ،ص۷۲،مصنف سید ہاشم رسولی محلاتی ( ناشردفتر فرہنگ اسلامی قم)
۵۔
۶۔ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷
۷ ۔ الفصول المہمۃ ،ص۳۰
۸ ۔ ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱
۹۔ تذکرۃ الخواص ،ص۲۰
۱۰۔ مناقب ابن مغازلی ،ص ۶، ح۳ ۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰
۱۱۔ محاضرۃ الاوائل ،ص۷۹
۱۲۔ وسیلۃ النجاۃ ،محمد مبین حنفی ،ص۶۰( چاپ گلشن فیض لکھنو ¿)
۱۳۔ وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲
۱۴۔ تلخیص مستدرک ج۲ص۴۸۳
۱۵۔ غالیۃ المواعظ ،ج ۲ص۸۹ و الغدیر ،ج۶ ، ص۲۲
۱۶۔ازاحۃ الخلفاءعن خلافۃ الخلفاء،ص۲۵۱
۱۷۔ مدارج النبوہ ج۲ص۵۳۱
۱۸۔ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷
۱۹۔ نور الابصار ، ص۸۵
۲۰۔ عبقریۃ الامام علی(ع) ،ص۴۳
۲۱۔ نزھۃ المجالس ،ج۲ص۴۵۴
۲۲۔ السیرۃ الحلبیۃ ،ج۱ص۱۳۹و ج۳ص۳۶۷
۲۳۔ سیرہ خلفاءج ۸ ص ۲
۲۴۔ وسیلۃ المال ،ص۱۴۵
۲۵۔ ریاض الجنان ،ج۱ص۱۱۱
۲۶۔ الاعلام الا ¾ علام مسجد الحرام خطی بہ نقل علی و کعبہ،ص۷۶
۲۷۔ قصیدہ علویہ ص۶۱

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s