مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہےسپاہی

Zulfiqar

ایک دفعہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ میدان جنگ میں کھڑے تھے۔ ایک کافر مد مقابل کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ حضرت علی کرم اﷲ ہ وجہہ نے اس کی تلوار کو جھٹکا دے کر ہوا میں دور پھینک دیا اور وہ آدمی نیچے زمین پر گر کیا۔ اس نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور کانپنے لگا۔

کچھ دیر بعد اس نے ڈرتے ڈرتے تھوری سی ایک آنکھ کھول کر دیکھا تو حضرت علی کرم اﷲ ہ وجہہ ٹہل رہے تھے۔ اب اُس کی دیکھنے والی آنکھوں اور دل کی آنکھیں بھی کھل گیں اور وہ جرات کر کے کہتا ہے۔ اے علی کرم اللہ وجہہ آپ نے مجھے مارا نہیں۔ حضرت علی کرم اﷲ ہ وجہہ نے فرمایا کہ میں بزدلوں پر وار نہیں کرتا۔ تو اُس شخص نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے کہا کہ آپ تو کریم خاندان کے فرد ہیں اپنی تلوار خیرات میں مجھے دے دیں۔

کائنات کے پہلے اور آخری سخی ہیں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ، جنہؤں نے دشمن کو اسلحہ خیرات میں دے دیا۔ اب حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے ہاتھ میں تلوار نہیں ہےاور کافر کے ہاتھ میں تلوار ہے۔
اس نے دیکھا کے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے چہرہ پر زرہ بھی پریشانی نہیں۔تو اُس نے پوچھا: اے علی کرم اﷲ وجہہ آپ ڈرے نہیں۔تو حضرت علی کرم اﷲ ہ وجہہ نے فرمایا میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں۔ وہ شخص اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔
اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا:

کافر ہے تو شمشیر پر کرتاہے بھروسا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہےسپاہی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s