الوداع پیارے مدینہ الوداع

الوداع پیارے مدینہ الوداع

qafila
26
رجب نماز عشاء کے بعد دار الامارہ مدینہ میں امام کے ساتھ پیش آنے والی صورت حال کے مد نظر 27 رجب نماز فجر کے بعد امام نے تمام خاندان کے افراد کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ مدینہ اب ہمارے رہنے کے لئے محفوظ نہیں رہ گیا اس لئے اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے
تجاویز کے بعد طے پایا کہ مکّہ جانا چاہیے لہٰذا امام نے حکم صادر فرمایا کہ تیاری شروع کی جائے- 27 رجب کا تمام دن سفر کی تیاریوں میں گزرا – 200 اونٹھوں کا انتظام کیا گیا جن پے خیمے، پانی کی مشکیں، خوراک، کپڑے اور ضروریات کا سارا سامان لاد دیا گیا- عشاء تک تمام تیاری مکمل ہو گئی- عشاء کے بعد خاندان والوں کو معلوم ہوا کہ امام ان کے درمیان نہیں ہیں- گھر والوں کو سخت پریشانی لاحق ہو ی اور بی بی زینب سلام اللہ علیھا نے گریہ شروع کر دیا، پھر حضرت عبّاس کے ذمے امام کی تلاش سونپی گئی – حضرت عبّاس جوانوں کو لے کر مدینہ کے اطراف میں دیکھنے گئے
ادھر امام جب عشاء کی نماز سے فارغ ہوے تھے تو نانا کی تربت اطہر پے تشریف لے آے تھے
جب آپ نانا کی تربت اطہر کی جانب بڑھ رہے تھے تو محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی شہنشاہ کسی دوسرے شہنشاہ سے ملاقات کو جاتا ہے
نانا کی زیارت اور ان سے راز و نیاز کے بعد آپ والدہ کی تربت کی جانب بڑھے- جب قریب پوھنچھے تو تربت پے نظر پڑتے ہی اس طرح بے ساختگی سے تربت کی طرف لپکے جس طرح ایک بچھرا ہوا بچہ ماں کو دیکھتے ہی ماں کی گود کی جانب لپکتا ہے- جاتے ہی والدہ کی تربت سے لپٹ گئے اور خوب گریہ فرمایا- ماں کی تربت سے ماں کا لمس محسوس ہوا تو نیند آ گئی- خواب میں والدہ کی زیارت ھوئی- بی بی نے بیٹے کو تسلی دی اور فرمایا, گھر جاو زینب بہت پریشان ہے- آپ بیدار ہوے اور گھر کی جانب بڑھے تو راستے میں غازی سے ملاقات ہو گئی – غازی کی آنکھوں سے بھائی کی جدائی میں آنسو رواں تھے- امام نے بھائی کو گلے لگایا اور گھر تشریف لے آے

قافلہ تیار تھا- حکم امام پے منتخب لوگوں کو ساتھ لیا گیا اور خاندان کے باقی افراد کو مدینہ میں مختلف فرائض سونپ کر پیچھے چھوڑا گیا- محمّد بن حنفیہ کے ذمہ لوگوں کی دینی رہنمائی اور حضرت عبدللہ بن جعفر کے ذمہ کاروباری اور معاشی ذمہ داریاں سونپی گیں – امام کے علم میں تھا کے جب یہ قافلہ شام سے ہو کر مدینہ آے گا تو ان پسماندہ افراد کو دوبارہ آباد کاری, ذہنی سکوں اور حفاظت کی ضرورت ہو گی جس کے لئے مدینہ میں بھی گھر کے چند مضبوط اور با اثر افراد کا ہونا بہت ضروری ہے

بی بیاں اور بچے اونٹھوں پے سوار کروا دئے گئے اور روانگی کی صدا بلند کر دی گئی- مدینہ کے لوگ سبط پیمبر کو بھیگی آنکھوں سے وداع کرنے آے

   27
اور 28 رجب کی درمیانی شب کو قافلے نے ہمیشہ کے لئے مدینہ چھوڑ دیا- امام اب کبھی مدینہ واپس نہ آئیں گے

Advertisements

One thought on “الوداع پیارے مدینہ الوداع

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s