شہادتِ امام حسین علیہ السّلام

muqam shabiri

 

 

شہادت امام حسین کا مختصر جائزہ

حضرت امام حسن علیہ السّلام اور حاکم شام معاویہ بن ابوسفیان میں جو صلح ہوئی تھی اس کی ایک خاص اہم شرط یہ تھی کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی جانشین کے مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا مگر سب شرطوں کو عملی طور سے پائمال کرتے ہوئے معاویہ نے اس شرط کی بھی نہایت شدت کی ساتھ مخالفت کی اور اپنے بیٹے یزید کو اپنے بعد کے لئے نامزد کیا, بلکہ اپنی زندگی ہی میں ممالک اسلامیہ کا دورہ کر کے بحیثیت آئندہ خلیفہ کے لئیے یزید کی بیعت حاصل کر لی- اس وقت حضرت امام حسین علیہ السّلام نے بیعت سے انکار فرما دیا- حاکم شام نے حضرت امام حسن علیہ السّلام کو موافق بنانے کی ہر طرح کوشش کی مگر ناکام ہوا –
یزید, نہ صرف یہ کہ اصولی طور پر اس کی خلافت ناجائز تھی بلکہ اپنے اخلاق , اوصاف اور کردار کے لحاظ سے اتنا پست تھا کہ تختِ سلطنت پر اس کا برقرار ہونا اسلامی شریعت کے لئے سخت خطرے کا باعث تھا- شراب و فجور, بدکاری اور ایسے اخلاقی جرائم کا مرتکب تھا جن کا ذکر بھی تہذیب اور شائستگی کی خلاف ہے- اس پر طرہ یہ کہ وہ حضرت امام حسین علیہ السّلام سے بیعت لینے پر مصر تھا گویا وہ اپنے خلاف ُ شریعت افعال کی صحت کے لئے پیغمبر اسلام کے نواسے سے سند حاصل کرنا چاہتا تھا- معاویہ کے مرنے کے بعد جب یزید تخت پر بیٹھا تو سب سے پہلی فکر اس کو یہی ہوئی کہ حضرت امام حسین علیہ السّلام سے بیعت حاصل کی جائے- اس نے اپنےگورنر کو جو مدینہ میں تھا معاویہ کی موت کی خبر کے ساتھ بیعت کے لئے بھی لکھا- ولید نے جو مدینہ کا گورنر تھا امام حسین علیہ السّلام کو بلا کر یزید کا پیغام پہنچایا- آپ پہلے ہی سے یہ طے کئے ہوئے تھےکہ یزید کی بیعت آپ کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہے- بیعت نہ کرنے کی صورت میں جو نتائج ہوں گے انہیں بھی خوب جانتے تھے مگر دین خدا کی حفاظت اورشریعت اسلام کی خاطر آپ کو سب گوارا تھا- آپ ولید کو مناسب جواب دے کر اپنے مکان پر واپس آئے-
مدینہ میں قیام اس کے بعد نامناسب خیال فرما کر ہجرت کا مضبوط ارادہ کر لیا- سن 60 ہجری, رجب کا مہینہ, 28 تاریخ تھی- جب حضرت اپنے نانا کا جوار چھوڑ کر ظالموں کے جور و ستم سے سفر غربت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے-
مکہ معظمہ, عرب کے بین الاقوامی قانون اور پھر اسلامی تعلیمات کی رو سے جائے پناہ اور امن و امان کی جگہ تھی- آپ نے مکہ میں ایک پناہ گزین کی حیثیت سے قیام فرمایا- آپ کے ساتھ آپ کی قریبی اعزہ تھیں جن میں خاندانِ رسول کی محترم بیبیاں اور کمسن بچیاں بھی تھیں- آپ اپنی طرف سے کسی خونریزی اور جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے تھے- حج کا زمانہ بھی قریب تھا اور حضرت علیہ السّلام کی دلی تمنا تھی کہ اس سال خانہ کعبہ کا حج ضرور فرمائیں جبکہ آپ مکہ ہی میں موجود ہیں مگر اسباب ایسے پیدا ہوئے کہ وہ بزرگوار جو اس سے پہلے پچیس حج خانہ کعبہ کے اپنے وطن مدینہ سے آ کر پاپیادہ بجا لا چکے تھے اس وقت مکہ میں موجود ہونے پر بھی حج کرنے سے محروم ہو گیے-
ظالم حکومت شام کی طرف سی کچھ لوگ حاجیوں کے لباس میں بھیجے گئے کہ وہ جس حالت میں بھی موقع ملےحضرت امام حسین علیہ السّلام کو خانہ کعبہ میں ہی قتل کر ڈالیں- حضرت علیہ السّلام نہ چاہتے تھے کہ آپ کی وجہ سے مکہ کے اندر خونریزی ہو اور خانہ کعبہ کی حرمت برباد ہو-
دو روز حج کو باقی تھے جب آپ تمام اہل و عیال اور اعزہ کے ساتھ مکہ معظمہ سے روانہ ہو گئے-

کوفہ کے لوگ برابر خط بھیج رہے تھےکہ آپ یہاں تشریف لائیں اور ہماری مذہبی رہنمائی فرمائیں جبکہ آپ مکہ سے نکلنے پر مجبور ہو چکے تھے تو اب کوفہ ہی وہ مقام ہو سکتا تھا جس کی طرف آپ رخ کرتے- یہاں کےحالات کو دیکھنے کے لئے آپ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل علیہ السّلام کو بھیج چکے تھے-
8 ذی الحجہ کو حضرت علیہ السّلام مکہ معظمہ سے کوفہ کے ارادے سے روانہ ہوئے مگر یہی وہ وقت تھا جب کوفہ میں حالات تبدیل ہو چکے تھے- شروع میں تو کوفہ کے لوگوں نے حضرت مسلم علیہ السّلام کا خیر مقدم کیا اور 18ہزار آدمیوں نے بیعت کی مگر جب یزید کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے حاکمِ کوفہ نعمان ابن بشیر کو معزول کیا اور ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا- یہ شخص بڑا ہی ظالم اور تشدد پسند تھا- اس نے کوفہ میں آ کر بڑے سخت احکام نافذ کئے اور تمام اہل کوفہ پر خوف و دہشت طاری ہو گئی- سب نے جناب مسلم علیہ السّلام کا ساتھ چھوڑ دیا اور آخر تن تنہا ہزاروں کا مقابلہ کرنے کے بعد بڑی مظلومی اور بیکسی کے ساتھ 9 ذی الحجہ کو وہ شہید کر ڈالے گئے-
حضرت امام حسین علیہ السّلام عراق کے راستے میں منزل زبالہ میں تھے جب حضرت علیہ السّلام کو مسلم علیہ السّلام کی خبر شہادت ہوئی اس کا حضرت علیہ السّلام پر بڑا اثر پڑا مگر عزم و استقلال میں ذرہ برابر فرق نہ آیا- واپسی کا بھی کوئی موقع نہ تھا – سفر جاری رہا- یہاں تک کہ ذوحسم کی منزل میں ابن زیاد کی فوج میں سے ایک ہزار کا لشکر حر بن یزید ریاحی کی سرداری میں آپ کا راستہ روکنے کے لئے پہنچ گیا- یہ دشمن کی فوج تھی مگر حضرت امام حسین علیہ السّلام نے ان کے ساتھ رحم و کرم کا وہ مظاہرہ فرمایا جو دنیائے انسانیت میں یادگار رہے گا- تمام فوج کو پیاسا دیکھ کر جتنا پانی ساتھ تھا- وہ سب پلا دیا اور ان بے آب راستوں میں اپنے اہل حرم اور بچوں کی پیاس کے لیے پانی کا کوئی ذخیرہ محفوظ نہ رکھا- اس کے باوجود بھی یزیدی فوج نے اپنےحاکم کی ہدایت کے مطابق آپ کے ساتھ تشدد اختیار کیا- آپ کو آگے بڑھنے یا واپس جانے سے روک دیا-
اب 61 ھ کا پہلا مہینہ شروع ہو گیا تھا- دوسری محرم کو حضرت علیہ السّلام کربلا کی زمین پر پہنچے اور یہیں اترنے پر مجبور ہو گئے- دوسرے دن سے یزید کا ٹڈی دل لشکر کربلا کے میدان میں آنا شروع ہو گیا اور تمام راستے بند کر دیئے گئے- امام حسین علیہ السّلام کے ساتھ صرف 72جانباز تھے اور ادھر لاکھوں کا لشکر
پہلے سات دن تک امن قائم رکھنے کے لئے کوشش ہوتی رہی- مگر نویں محرم کی سہ پہر کو صلح کے امکانات ختم ہو گئے- ابن زیاد کے اس خط سے جو شمر کے ہاتھ سعد کے پاس بھیجا گیا اس میں لکھا تھا

یا حسین علیہ السّلام غیر مشروط طور پر اطاعت قبو ل کریں یا ان سے جنگ کی جائے-

اس خط کے پہنچتے ہی یزیدی فوج نے حملہ کر دیا- باوجود یہ کہ ساتویں سے پانی بند ہو چکا تھا امام حسین علیہ السّلام کے سامنے ان کے اہل حرم اور چھوٹے بچوں کی بیتابی کے مناظر, العطش کی صدائیں اور مستقبل کے حالات, سب ہی کچھ تھا- مگر یزید کی بیعت اب بھی اسی طرح غیر ممکن تھی _
آپ نے یہ چاہا کہ ایک رات کی مہلت مل جائے- آپ چاہتے تھے کہ یہ پوری رات آخری طور پر عبادت خدا میں بسر کریں- اس کے علاوہ دوست و دشمن دونوں کو جنگ کا قطعی فیصلہ ہو جانے کے بعد اپنے اپنے طرز عمل پر غور کرنے کا موقع مل جائے- آپ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے تقریر بھی فرمائی- آپ نے فرمایا

کل قربانی کا دن ہے ان ظالموں کو مجھ سے دشمنی ہے, کیا ضرورت ہے کہ تم لوگ بھی اپنی زندگی کو میرے ساتھ خطرے میں ڈالو, میں تم سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں- اس رات کے پردے میں جدھر چاہو چلےجاؤ-

مگر ان جانبازوں نے ایک زبان ہو کر کہا کہ

ہم آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے-

عاشورہ کی رات ختم ہوئی- دسویں محرم کو صبح سے عصر تک کی مدت میں ان بہادروں نے جو کچھ کہا تھا اسے کر کے دکھایا- اس وفاداری , استقلال اور بہادری کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السّلام کی نصرت میں دشمنوں سے مقابلہ کیا جو تاریخ میں یادگار رہے گا- ان میں حبیب ابن مظاہر, مسلم بن عوسجہ, سوید ابن عمرو, انس بن حارث اور عبدالرحمن ابن عبدالرب ایسے ساٹھ ستر اور اسی برس کے بوڑھے تھے اور متعدد اصحاب ُ رسول بھی تھے- بریر ہمدانی, کنانہ ابن عتیق تغلبی, نافع ابن ہلال, حنظلہ ابن اسعد جیسی حفاظ قرآن تھے اور بہت سےعلما اور راویان حدیث, بہت سے عابدِ شب زندہ دار اور بہت سے ایسے شجاعانِ روزگار تھے جن کی شجاعت کے کارنامے لوگوں کی زبان پر تھے-

جب مددگاروں میں کوئی باقی نہ رہا تو عزیزوں کی نوبت آئی- سب سے پہلی حضرت علیہ السّلام نے جوان بیٹے علی اکبر علیہ السّلام کو جو شبیہہ پیغمبر بھی تھے شہادت کے لیے بھیج دیا علی اکبر علیہ السّلام نے جہاد کر کے اپنی جان دین خدا پر نثار کی-
امام حسین علیہ السلام کو شبیہ رسول کی جدائی کا صدمہ تو بہت ہوا مگر عمل کے راستے میں آپ کی ہمت حوصلے اور ولولے میں کوئی فرق نہیں آیا-
عقیل کی اولاد عبداللہ ابن جعفر کے فرزند ایک ایک کر کے رخصت ہوئے- امام حسن علیہ السّلام کے یتیم قاسم علیہ السّلام کی جدائی آپ کو شاق ہوئی مگر اپنے بزرگ مرتبہ بھائی کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے قاسم علیہ السّلام کو بھی رخصت کر دیا- سب سے آخر میں فرزندان امیر المومنین علیہ السّلام میدان جہاد میں گئے –
جب کوئی نہ رہا تو علمدار علیہ السّلام کی باری آئی- قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس علیہ السّلام کو حضرت علیہ السّلام کسی طرح اجازت جہاد نہ دیتے تھےکیونکہ ان کے کاندھوں پر اسلام کا علم لہرا رہا تھا- مگر ایک طرف بچوں کو پیاس, دوسری طرف جوش جہاد, عباس علیہ السّلام پانی لینے کے لئے ایک مشک اپنے ساتھ لے کر فرات کی جانب متوجہ ہوئے- انہوں نے علم کی حفاظت بھی کی- دشمنوں سے مقابلہ کیا- فوج کو ہٹا کر نہر کا راستہ بھی صاف کیا اور مشک میں پانی بھی بھر لیا مگر افسوس کہ یہ پانی خیام حسینی تک پہنچ نہیں پایا تھا کہ بہادر عملدار علیہ السّلام کے شانے قلم ہوئے- مشک تیر سے چھدی اور پانی زمین پر بہا- عباس علیہ السّلام کی قوت ختم ہو گئی- گرز کے صدمے سے زمین کی طرف جھکے اور علم عباس علیہ السّلام کے ساتھ زمین پرآ گیا-
حسین علیہ السّلام کی کمر شکستہ ہو گئی- پشت جھک گئی مگر ہمت پھر بھی نہیں ٹوٹی- اب جہاد کے میدان میں حسین علیہ السّلام کے سوا کوئی نظر نہ آتا تھا مگر فہرست ُ شہدا میں ابھی ایک مجاہد کا نام باقی تھا جس کا جواب قربانی کی تاریخ میں نہ پہلے نظر آیا نہ بعد میں نظر آ سکتا ہے- یہ چھ مہینے کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تھا جو گہوارہ میں پیاس سے جاں بلب تھا- حسین علیہ السّلام در خیمہ پر تشریف لاے اور اس بچے کو طلب فرمایا – بچہ کی عطش اور اس کی حالت کا مشاہدہ فرمایا- یقینایہ منظر ہر حساس انسان کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھا مگر کیسے بے رحم تھے وہ سخت دل فوج شام کے سپاہی جنہوں نے حسین علیہ السّلام کے ہاتھوں پر اس معصوم بچے کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ رحم کھاتے اور بچے کو سیراب کرتے, ظلم اور شقاوت کو انتہائی حد تک پہنچا دیا- سخت دل حرملہ کا تیر اور بچے کا نازک گلا- امام حسین علیہ السّلام نے یہ آخری ہدیہ بھی بارگاہ الہی میں پیش کر دیا –

اب امام بہ نفس نفیس جہاد کے لئے تشریف لاے اور فوجوں کا رخ پھیر دیا- آپ نے میدان میں وہ بہادری اور جان نثاری کا مظاہرہ فرمایا کہ عرش الہی بھی عش عش کر اٹھا- آخر آپ نے بھی اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی اور تاریخ انسانی میں ایک ایسا باب رقم کر دیا جس کی مثال قیامت تک ملنا ممکن نہ ہو گی –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s