نهج البلاغة خطبہ ۱۰۱ مولا علی علیہ اسلام

زہدو تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا

دنیا کو زہد اختیار کرنے والوں اور اس سے پہلو بچانے والوں کی نظر سے دیکھو، خدا کی قسم ! وہ جلد ہی اپنے رہنے سہنے والوں کو اپنے سے الگ کر دے گی، اور امن و خوشحالی میں بسر کرنے والوں کو رنج و اندوہ میں ڈال دے گی ، اور جو چیز اس میں کی منہ موڑ کر پیٹھ پھرا لے، وہ واپس نہیں آیا کرتی ۔ اور آنے والی چیز کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی راہ دیکھی جائے ۔ اس کی مسرّتیں رنج میں سمودی گئی ہیں، اور جوانمردوں کی ہمت و طاقت اس میں کمزوری و ناتوانی کی طرف بڑھ رہی ہے (دیکھو) دنیا کو خوش کر دینے والی چیزوں کی زیادتی تمہیں معزور نہ بنا دے اس لیے کہ جر چیزیں تمہارا ساتھ دیں گی ، وہ بہت کم ہیں۔
خدا اس شخص پر رحم کے جو سوچ بچارسے عبرت اور عبرت اور بصیرت سے حاصل کرے ، دنیا کی ساری موجود چیزیں معدوم ہو جائیں گی گویا کہ وہ موجود تھیں ہی نہیں، اور آخرت میں پیش ہونے والی چیزیں جلد ہی موجود ہو جائیں گی ، گویا کہ وہ ابھی سے موجود ہیں۔ ہر شمار میں آنے والی چیز ختم ہوجایا کرتی ہے اور جس کی آمد کا انتظار ہو، اسے آیا ہی جانو اور ہر آنے والے کو نزدیک اور پہنچا ہوا سمجھو۔

اس خطبہ کا ایک جزیہ ہے :۔
عالم وہ ہے جو اپنا مرتبہ شناس ہو، اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ وہ اپنی قدر و منزلت نہ پہچانے ۔ لوگوں میں سب سے زیادہ نا پسند، اللہ کو وہ بندہ ہے جسے اللہ نے اس کے نفس کے حوالے کر دیا ہے ۔ اسی طرح کہ وہ سیدھے راستے سے ہٹا ہوا اور بغیر رہنما کے چلنے والا ہے ۔ اگر اسے دنیا کی کھتی (بونے) کے لیے بلایا جاتاہے ، تو سرگرمی دھاتا ہے اور آخرت کی کھتی (بونے) کے لیے کہا جاتا ہے تو کاہلی کرنے لگتا ہے ۔ گویا جس چیز کے لیےاس نے سرگرمی دکھائی ہے وہ تو ضروری تھی ، اور جس میں سستی و کوتاہی کی ہے۔ وہ اس سے ساقط تھی۔

اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے :۔
وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ جس میں وہ خوابیدہ مومن بچ کر نکل سکے گا جو سامنے آنے پر جانا پہچانا نہ جائے، اور نگاہ سے اوجھل ہونے پر اسے ڈھونڈھانہ جائے ۔ یہی لوگ تو ہدایت کے جگمگاتے چراغ اور شب پیمائیوں میں روشن نشان ہیں ۔ نہ وہ ادھر ادھر کچھ لگاتے پھرتے ہیں، نہ لوگوں کی برائیاں اچھالتے ہیں اور نہ اس کے راز فاش کرتے ہیں ۔ اللہ انہیں لوگوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دے ، اور ان سے اپنے عذاب کی سختیاں دور رکھے گا۔
اے لوگو! وہ زمانہ تمہارے سامنے آنے والا ہے کہ جس میں اسلام کو اس طرح اوندھا کر دیا جائے گا۔ جس طرح برتن کو (ان چیزوں سمیت جو اس میں ہوں ) الٹ دیا جائے اے لوگ! اللہ نے تمہیں اس امر سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ تم پر ظلم کرے ۔ مگر اس سے پناہ نہیں کہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے ۔ اس بزرگ و برتر کہنے والے کا ارشاد ہے ۔ اس میں ہماری بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم تو بس ان کا امتحان لیا کرتےہیں ۔

Advertisements

One thought on “نهج البلاغة خطبہ ۱۰۱ مولا علی علیہ اسلام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s